astrology-book-003

قر آن کریم میں علم نجوم کے اشارے

اسلام علیکم یہ خصوصی نوٹ ان صاحبان کیلیے ہے جو کہ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا علم نجوم سے استفادہ کرنا شرعی ہے یا غیر شرعی ہے تو اس حوالہ سے چند دلائل اور قر آنی حوالہ جات پیش خدمت ہیں امید ہے آپ کے لیے تسلی بخش ثابت ہونگے ہر سال کم از کم چار سے پانچ شمسی و قمری گرہن لگتے ہیں اور گرہن کے اوقات میں واجب نماز (کسوف و خسوف)ادا کرنے کا حکم ہے جو کہ شمس و قمر کے اس وقت نحس اثرات مرتب کرنے پر دلیل ہے ۔اسی طرح ہر ماہ قمر در عقرب ہوتا ہے یہاں قمر کو ہبوط ہوتا ہے اور قمر منفی اثرات مرتب کر تا ہے اقوال معصومین ؑ کی روشنی میں یہ ایک نحس وقت ہے اور ان اوقات میں سفر،کاروبار،شادی بیاہ ،منگنی یا کسی بھی نئے کام کی ابتدا ء سے گریز کرنا چاہیے اسکے علاوہ ہر سال بیس یا اکیس مارچ کو نوروز ہوتا ہے جو کہ ایک سعد ترین وقت ہے اس وقت کہ اقوام عالم میں مختلف حوالوں سے منایا جاتا ہے اور یہ وقت کوئی علم نجوم ہی نکال سکتا ہے یہ تمام باتیں اس بات پرمددلیل ہیں کہ سیارگان انسانی زندگی پر سعد و نحس دونوں طرح کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
آئیے اب کلام الہی کی جانب رجوع کرتے ہیں سورہء بروج میں ہے (یعنی بزرگ ہے وہ خدا جس نے آسمان پر بروج بنائے ان میںآفتاب کا چراغ جلایا اور آفتاب کو روشن کیا
چاند اور سورج ایک مقررہ حساب سے چل رہے ہیں (سورہ رحمن) یہ آیت تقویم سیارگان کیجانب اشارہ ہے ۔
وہی ہے جس نے آفتاب کو سراپا روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔(سورہ یونس)۔ اس آیت میں منازل قمری بارے واضح اشارہ موجود ہے جو کہ کسی بھی جنتری کا جزو اعظم ہے قرآن کریم میں حضرت ابرا ہیم کا واقعہ بھی ایک بٹر ی دلیل ہے (پس ابراہیم نے ستاروں میں ایک نظر دیکھا پھر کہا یقیناًمیں بیمار ہونے والاہوں)یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ستاروں کی حرکات و سکنات سے ہونے والے واقعات مثلا صحت و بیماری یاد یگرامور بارے جانا جا سکتا ہے اسی طرح صاحب علم حضرات اپنی علمی بصارت سے پیش گوئی کرتے ہیں اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ قادر مطلق صرف پروردگار کی ذات ہے اور ہر چیز اسی کے امر کی طابع ہے اگر آپ اس علم سے مثبت فوائد حاصل کرنا چاہیں تو آنے والے وقت کی پیش بندی پروردگارکی ذات سے دعاؤں اور صدقات وغیرہ کے ذریعہ کر سکتے کیونکہ کوئی بھی خلقت خالق اکبر سے بٹرھ کر نہیں ہو سکتی ۔